بی بی سی میں شائع ہونے والے ایک ملحد پروفیسر کی کتاب کی تشہیر کیلئے شائع ہونے والے تبصرے کاتذکرہ اس موضوع پر مفصل بحث تاریخی،سائنسی اور علمی حوالہ جات کے ساتھ ان شاءاللہ میرے مقالے میں آئے گی
جولوگ خدا کے منکرہوئے
کچھ مفکرین،جو خدا کے وجود کو ماننے پر اس لیے راضی نہ ہوئے کہ خدا کا وجود ان کے حواس کی گرفت میں نہ آتا تھا اور ان کے خیال میں یہ ضروری تھا کہ اس کائنات کا بنانے والا بھی،اس کے اجزا کی طرح ان کے حواس کی گرفت میں آئے۔ ان لوگوں نے بھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ یہ کائنات بنی ہوئی ہے، بلکہ اس سے انکار کیا ہے کہ اسے بنانے والا اس کے خارج میں کوئی الگ وجود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مادہ خود اپنے آپ کو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی یہ کائنات وہ چیز ہے،جس نے خود اپنے آپ کو بنایا ہے،بہرحال انھیں اس سے انکار نہیں کہ یہ ایک بنی ہوئی شے ہے۔ کیونکہ اگر وہ اس سے انکار کردیں تو پھر اس کائنات کے بارے میں وہ سب حقائق باطل ہو جاتے ہیں ،جن کی بنیاد پر سائنس معجزات کی ایک دنیا وجود میں لے آئی ہے۔ پھر انسان کا ذاتی مشاہدہ باطل ہو جاتا ہے اور اس کے پاس کسی چیز کی کوئی توجیہ باقی نہیں رہتی۔ایسے ہی ایک سرپھرے کانام سرہاکنگ ہیں ۔ان کی جس بات کوتحقیق کانام دے کر"ریڈیو چینل بی بی سی اور دیگر مغربی میڈیا"عام آدمی کے ذہن کو تشویش میں مبتلاکرتے رہے اوردھریت کی ذہن ساز ی کرتے رہےکوئی وزن نہیں رکھتی ۔ہم بی بی سی کاصفحہ بعینہ نقل کردیتے ہیں ملاحظہ ہو
’تخلیق کائنات میں خدا کی ضرورت نہیں
کائنات کی تخلیق کے موجودہ نظریے کو چیلنج کرنے والے ماہر طبعیات پروفیسر ہاکنگ دنیا کے ایک سرکردہ ماہر طبعیات سٹیون ہاکنگ نے کہا ہے کہ تخلیق کائنات کے لیے کسی خالق کائنات کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
اپنی تازہ تصنیف میں انھوں نے کہا ہے کہ کائنات کی تخلیق میں خدا کے کردار کےبارے میں انھوں نے اپنانظریہ تبدیل کرلیا ہے۔ اوراب وہ اس نتیجے پر پہنچےہیں کہ ’بگ بینگ‘ محض ایک حادثہ یا پہلے سے پائے جانے والے سائنسی یامذہبی عقائد کے مطابق خدا کے حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ کائنات میں موجودطبعی قوانین کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ان کا کہنا ہے کہ کائنات کا از خود بننا یعنی بلا ارادہ وجود میں آنا ہی یہ دلیل ہے کہ پہلے سےکچھ نہ کچھ موجود تھا۔
سٹیون ہاکنگ اپنی نئی کتاب ’ دی گرینڈ ڈیزائین` میں اپنے نظریے کی دلالت کرتےہوئے لکھتے ہیں کہ آفاق میں موجود کشش ثقل کے قانون کے مطابق دنیا بغیرکسی مصمم ارادے یا منصوبے کے وجود میں آسکتی ہے۔آپ سا ئنس کے قوانین کو ’خدا‘ کہہ سکتے ہیں ہاں مگر یہ آپ کا کوئی ایسا خدا نہیں ہوگا جس سے آپ مل سکیں اور سوال کرسکیں۔
پروفیسر ہاکنگ سٹیون ہاکنگ اب کہتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق میں کسی ’ان دیکھے تخلیق کار‘ کا تصور سائنس کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ہاکنگ کا یہ نیا نظریہ نہ صرف ان کے اپنے ہی سابقہ نظریات کی نفی کررہا ہےبلکہ دنیائے طبعیات کے ایک سرکردہ نام سر آئزک نیوٹن کے اس نظریہ کی نفیکرتا دکھائی دیتا ہے کہ کائنا ت لازمی طور پر خدا کی تخلیق تھی کیونکہ یہ کسی بے ترتیب اور منتشر مادے سے وجود میں نہیں آسکتی تھی۔
اس کے برعکس ہا کنگ اب کہتے ہیں کہ دنیا، اس میں ہمارا وجود میں آنا اورہماری بقا خود ایک ثبوت ہے کہ دنیا حادثتاً نہیں بلکہ کسی شے کے ہونے کانتیجہ تھی۔واضح رہے کہ ہاکنگ نے 1988 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’ بریف ہسٹری آف ٹائم‘ میں تخلیق کائنا ت میں خدا کے وجود کو مسترد نہیں کیا تھا بلکہ لکھا تھا کہ دنیا کی وجودیت کوسمجھنے کے لیے ایک ان دیکھے تخلیق کار کا تصور سا ئنسی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ کتاب اس برس میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب تھی۔گوکہ موجودہ کتاب میں دنیا کے وجود میں آنے کے بارے میں ان کا نظریہ تبدیل ہوا ہے تاہم ہا کنگ خدا کے وجود کے امکانات سے انکاری نہیں بلکہ خدا کےخالق کائنات ہونے کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ہاکنگ نے اس سے پہلے ٹیلی وثن پرگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ آپ سا ئنس کےقوانین کو خدا کہہ سکتے ہیں مگر یہ آپ کا کوئی ایسا خدا نہیں ہوگا جس سےآپ مل سکیں اور سوال کرسکیں۔ہاکنگ نے یہ کتاب امریکہ کے ماہر طبعیات لیونارڈ ملاڈینو کے ساتھ مل کر لکھی ہے۔کتاب قسط وار ’ٹائمز` روزنامے میں میں شائع ہورہی ہے۔سٹیون ہاکنگ گزشتہ برس تک کیمرج یونیورسٹی میں شعبہ ’علم ریاضی کے سربراہ تھے یہ عہدہ اس سے پہلے سر ائزک نیوٹن کے پاس تھا۔
پروفیسرکے دلائل کی تلخیص
آپ نے پروفیسر کے دلائل پڑھے یہاں ہم ان دلائل کی تلخیص کرتے ہیں
۱ اب وہ اس نتیجے پر پہنچےہیں کہ ’بگ بینگ‘ محض ایک حادثہ یا پہلے سےپائےجانے والے سائنسی یامذہبی عقائد کے مطابق خدا کے حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ کائنات میں موجودطبعی قوانین کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ان کا کہنا ہے کہ کائنات کا از خود بننا یعنی بلا ارادہ وجود میں آنا ہی یہ دلیل ہے کہ پہلے سےکچھ نہ کچھ موجود تھا۔
۲ آفاق میں موجود کشش ثقل کے قانون کے مطابق دنیا بغیرکسی مصمم ارادے یا منصوبے کے وجود میں آسکتی ہے۔آپ سا ئنس کے قوانین کو ’خدا‘ کہہ سکتے ہیں ہاں مگر یہ آپ کا کوئی ایسا خدا نہیں ہوگا جس سے آپ مل سکیں اور سوال کرسکیں۔
تجزیہ
عجیب حماقت بھر ی دلیلیں ہیں پہلی بات کہ کائنات کااز خود بننا ہی دلیل ہے کے پہلے کچھ نہ تھا۔اگر ایک صحرا میں ایک دیوار بنی ہوقریب کسی انسان کانام ونشان بھی نہ ہوپھر ان پروفیسر صاحب کو کہاجائے کہ قریب کسی انسان کااتا پتانہیں ان دیواروں کاخود بخود بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے سے کچھ موجود نہ تھاخود ہی دیوار بن گئی تو یہ بات ان بڑے میاں کو سمجھ نہ آئے گی اور وہاں اس کابنانے والاکوئی انسان بتائیں گے۔
ایک دیوار تو خود بخود بن نہیں سکتی اور اتنابڑا عالم خود ہی بن گیا۔
دوسری دلیل بھی ایسی ہی بے سروپا ہے کہ آفاق میں موجود کشش ثقل کے قانون کے مطابق دنیا بغیرکسی مصمم ارادے یا منصوبے کے وجود میں آسکتی ہے۔یہ بات تو ٹھیک ،مگر دماغ میں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اتنا بڑا نظا م کشش ثقل خود ہی بن گیاایک دیوار تو خود بخود بن نہیں سکتی ۔ آخر کو ئی بنانے والاتو ہے۔
"کھوداپہاڑ نکلا چوہا" کی مثل ایسے ہی موقع کے لئے وضع کی گئی ہے ان دانشوروں کی عقل کا اندازہ لگائیے کہ اتنا شور مچایااور اسکی کتاب کی سب سے مضبوط دلائل کوذکرکیا جن کا یہ حال ہے ۔
اصل بات کیاہے؟
یہ مادہ پرست ذہنیت کے لوگ حقیقتاً ایک آزاد ذہن نہیں رکھتے بلکہ ایک طے شدہ ذہنیت ہے جس سے وہ ایک انچ پیچھے ہٹنے کوتیار نہیں اس کااندازہ اس بات سے کریں جو ہارون یحی صاحب نے ہارورڈ یونیورسٹی کے استاد رچرڈ لیونٹس جو اپنے آپ کو مادہ پرست اور سائنس دان سمجھتے ہیں ،ان کاقول نقل کیاہے ملاحظہ فرمائیں:
"ہم مادہ پر ایمان لائے ہیں اور گزشتہ تسلیم شدہ اشیاء کو بھی مانتے ہیں ،مادی فلسفہ پر یہ ایمان اور اس سے ہماراتعلق وہ امر ہے جس کی بنا پر ہم دنیامیں موجود تمام چیزوں کی مادی تفسیر اور مادی مفہوم بیان کرتے ہیں ،سائنس کے قواعد و ضوابط نہیں بلکہ مادیت پر ہماراایمان ہمیں دنیا میں موجود تمام چیزوں کی مادی تفسیر کے لئے جاری تحقیقات سے لامحدود تعاون کرنے پر مجبور کرتا ہے ، چونکہ مادیت غیر مشروط طور پردرست ہے اس لئے ہم الہی اور خدائی تفسیر کو ان واقعات کے سامنے ہر گز نہیں سن سکتے "
یہ الفاظ ان سائنسدانو ں کی ہٹ دھرمی اور مادی فلسفے سے ان کی اندھی وابستگی کے غماز ہیں ۔ اس نظرئیے کے غالی اور انتہا پسند لو گوں کاخیال ہے کہ مادہ کے سوا کسی چیز اکاوجود ہی نہیں اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جانداروں کاوجو د ، بے جان مادہ کی وجہ سے ہے۔
ان پروفیسرہاکنگ صاحب کابگ بینگ سے "کائنات کے خداکی تخلیق نہ ہونے پر"کااستدلال اسی تعصب سے بڑھ کرکچھ نہیں ، اس کی وضاحت آگے ہوگی اس سے پہلے یہ سن لیں کہ ان کی برادری کے لوگ( یعنی مادہ پرست سائنسدان جوکہ خدا کہ وجود کے منکر ہیں ) پہلے پہل اس کے برعکس یہ نظریہ رکھتے تھے کہ دنیاساکن ہے یعنی اپنے حال پر قائم ہےاور عد م سے وجود میں نہیں آئی لہذ ااس کےلئے کسی خداکاتصور ضروری نہیں مزید برآں وہ یہ وضاحت بھی کرتے تھے کہ ہم اس کائنات کواس وقت کسی خدا کی مخلوق ماننے کو تیار ہونگےاگر یہ ثابت ہوجا ئے کہ کائنات عدم سے وجودمیں آئی ہو کیونکہ عدم سے وجود میں آنامستلزم ہوگاکسی موجد کے وجود کو۔اُس زمانے کے سائنسدان ایک عرصہ تک اس بات کو بنیاد بناکرشور کر تے رہے،اس بارے میں یحی ٰ ہارون لکھتے ہیں:
'مادیت انیسویں صدی میں اپنی مقبولیت کے عروج پر تھی ،اس کی مقبولیت کی بڑی وجہ"ساکن کائنات" کا وہ خاکہ تھا،جسے کائنات کے وجود میں آنے کے سوال کے جواب کے طور پر پیش کیاگیا،اس خاکہ کی روسےچونکہ کائنات دائمی ہے یعنی اس کاکو ئی آغاز ہے نہ کو ئی انجام، اس لئے اس کےوجود میں آنے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔یہ مان لیا گیا کہ کائنات مادے کامستقل ،مستحکم اور غیر متغیر مجموعہ ہے اس لئے یہ اپنی پیدائش کے لئے کسی خالق کی متقاضی ومحتاج نہیں۔
اس صدی کی دوسری دہائی میں مشاہدات نے ثابت کیا کہ کائنات ساکن نہیں اور اس کاایک نقطہ آغاز ہے۔اس دریافت نے خالق کائنات کی موجودگی کاسوال بھی اٹھایا۔مادیت پسند فلسفے کے معروف مفکرجارج پولٹزر نے اپنی ایک کتاب میں یوں لکھاہے :
"کائنات ایک پیداکیا گیاوجود نہیں ۔اگر ایسا ہے تو اسے خدانے پیداکیاہوتااور وہ اسے لاشیٔ سے وجود میں لایا ہوتا۔تخلیق کو ماننے کے لئے یہ ضرور ی ہے کہ یہ طے کرلیاجائےکہ ایک لمحہ تھاجب کائنات موجود نہیں تھی اور کوئی شی لاشی ٔ سے وجود میں آئی ۔ یہ ایک ایساامرہے جسے سائنس تسلیم نہیں کرتی ۔"
دیکھیں ایک صدی پہلے کاسائنسدان اسی بات کوکہ' کائنات کسی خالق کی مخلوق نہیں ہے' جو آج یہ پروفیسرہاکنگ صاحب اس تجربہ کی آڑ میں ثابت کرناچاہتے ہیں ،اس کے بالکل برعکس سائنسی نظریہ سے یہ نتیجہ نکال رہے ہیں ،اصل بات ان مادہ پرستوں کی ہٹ دھرمی ہے ،تجربہ سے جو مرضی ثابت ہوجائے "میں نہ مانوں کہ قاعدہ سے "نتیجہ یہی نکالیں گے کہ خداکاتخلیق ِجہاں میں کوئی دخل نہیں ،یہ نتیجہ کسی علم وہنر سےنہیں بلکہ ہٹ دھرمی سے ہے۔
بگ بینگ کاخیال کیسے پیدا ہوا؟
۱۹۲۹ء میں کیلیفورنیا کی ماؤنٹ ولسن رصدگاہ میں امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے جو حقیقت دریافت کی اسے فلکیات کی عظیم ترین دریافتوں میں شمار کیا جاسکتاہے۔بہت بڑی دور بین سے ستاروں کامشاہدہ کرتے ہوئے اسے پتہ چلاکہ اس نے آنے والی روشنی طیف کے سرخ سرے کی طرف تحویل ہوتی ہے ۔ کوئی ستارہ جتنادور ہے اس تحویل کی شرح اتنی ہی نمایاں ہے۔اِس دریافت نے سائنسی حلقوں میں ہلچل مچادی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمہ سائنسی اصولوں کی رو سے اگر روشنی کا سر چشمہ مشاہدہ کرنے والے کی طرف بڑھ رہاہوتو اس سے خارج ہونے والی شعاعوں کو کوالٹرا وائلٹ سرے کی طرف تحویل ہوناچاہئے ،اس کے برعکس اگر یہ سرچشمہ مشاہدہ کرنے والے سے دور ہٹ رہاہوتو اس سے نکلنے والی شعاعوں کو سرخ سرے کی طرف تحویل ہوناچاہئے ۔ ان معلو مات کی روشنی میں ہبل کے مذکورہ بالامشاہدے کا مطلب یہ نکلتاہے کہ کائنات ہم سےدور ہٹ رہی ہے۔
اس کےفور اً بعد ہبل نے ایک اور دریافت کی ،ستارے اور کہکشائیں صرف ہم سے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے بھی دورہٹ رہی ہیں ۔جس کائنات میں سب چیزیں ایک دوسرے سے دور ہورہی ہوں اس کےبارے میں صرف یہی کہاجاسکتاہے کہ وہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس تصور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ایک غبارے کاتصور کریں جس کی سطح پرنقطے بنے ہوئےہوں۔ جب غبارہ پھلایاجائے گاتو یہ نقطے ایک دوسرے سے دور ہٹیں گے۔کہکشائیں بھی ان نقطوں کی طرح ایک دوسرے سےدور ہٹ رہی ہیں۔
ہبل کے مشاہدے اور دریافت سے پہلے آئن سٹائن یہی حقیقت نظری دریافت کرچکا تھا۔البرٹ آئن سٹائن نے اپنے نظریہ ٔ اضافیت کے لئے جو ریاضیاتی مساواتیں بنائیں ان کی رو سے کائنات ساکن نہیں ہوسکتی ۔ آئن سٹائن اپنی اس دریافت پر خود بھی حیران ہوا ۔اسے اس ان چاہے نتیجے سے بچنے کے لئے اپنی مساوات میں کائناتی مستقل شامل کرناپڑا۔اس وقت کی فلکیات کے مطابق کائنات ساکن تھی اور وہ نہیں چاہتاتھاکہ اس کانظریہ ساکن نظریات کے خاکے سے متصادم ہو۔آئن سٹائن نے کائنات پر اپنانظریہ واپس لے لیا۔وہ اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کہتاتھا۔
۱۹۲۲ء میں پہلی مرتبہ روسی سائنسدان الیگزینڈر فریڈ میں نے نظریہ ٔاضافیت کی بنیاد پر دریافت کیاکہ کائنات ساکن نہیں اور اس میں سکڑاؤیاپھیلاؤ آسکتاہے۔اپنے نتائج پیش کرتے ہوئے فریڈمین نے آئن سٹائن کے مضمون مطبوعہ ۱۹۱۷ء میں اس کے کائناتی مستقل کی تصحیح بھی کی۔
بلجیم کے سائنسدان جارج لیمر نے ان نتائج کی بنیاد پر پہلی بار یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کائنات کاایک لمحہ ٔ آغاز بھی تھااور اپنے اس آغاز کے بعد سے یہ متواتر پھیل رہی ہے ۔ اس نے یہ بھی کہاکہ آغاز کے بعد سے یہ متواتر پھیل رہی ہے۔اس نے یہ بھی کہاکہ آغاز کے وقت جو شعاعیں خارج ہوئی تھیں انہیں شناخت کیا جاسکتاہے۔ ان شعاعوں کو کائناتی پس منظر ی شعاعوں کانام دیا گیا،اور یہ بعد میں دریافت بھی ہوگئیں۔
اور شروع میں جب بگ بینگ کافلسفہ معلوم ہوا اور یہ معلو م ہو ا تو اس برادری کوبڑی فکر ہوئی اور اس حقیقت کو رد کرنے کی کوششیں کیں گئیں کیونکہ عدم سے کسی شی کاوجود میں آنا مستلز م ہے موجد کو ،جس سے خالق کا وجود ثابت ہوجاتا،تو اولا اس برادری کے لوگوں نے اس کا روکنے کی پوری کوشش کی مگر جب بگ بینگ کی حقیقت روز ِ روشن کی طرح سامنے آگئی تو کئی عشروں ان لوگوں کو سانس سونگارہااور سوچتے رہے بولیں تو کیسے بولیں۔ اب تقریبا ۵۰ سال کی خاموشی کے بعد یہ مادہ پرست نئے لباس میں آرہےہیں۔ تفصیل ان شاء اللہ حوالہ جات کے ساتھ مقالے میں۔
یہ کائنات بغیر خالق کے وجود میں نہیں آسکتی
جدید سائنس اس بات کوتسلیم کرتی ہے کہ اس کائنات کاوجود کسی خاص نقطے پر ایک زبردست دھماکے سےہوا اس کے بعد کائنات نے پھیلتےپھیلتےموجودہ شکل اختیار کی ۔یہ دھماکہ تقریباً ۱۵ارب سال پہلے ہوا تھا۔ چنانچہ فضاء، کہکشائیں،سیارے،ستارے،غرض کائنات کے تمام اجزائےترکیبی ہلاکت خیزانداز میں اندازمیں اندھا دھندبکھر جاتے ، مگر جو حقیقت میں وجو د پذیر ہو ا وہ اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک انتہائی مرتب ،منظم اور نہایت مہار ت سے جڑی کائنات کووجود ملا۔ سائنسدان مادے کے اندھا دھندبکھرنےاور اس سے شمس وقمرستاروں ،سیاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل کی مثال کسی کمرے کے اند ر پڑے گند م کے ڈھیر سے دیتے ہیں جس پر ایک دستی بم پھینکا گیاہو اور اس دھماکے سے گند م ترتیب سے رکھی خوبصور ت ڈبیوں میں بھر گئی اور وہ ڈبیاں منظم انداز میں خاص ترتیب کے ساتھ طاقچوں میں سج گئیں۔ لیکن کائنات کے اجزاء کی ترکیب اس گند م سے بھی زیادہ منظم اور خرق عاد ت ہے۔ چنانچہ پروفیسرفرڈہویل اس عظیم دھماکےقائل نہ ہونے کے باوجوداس کائنات کے نظم ونسق کے بارے میں رقم طراز ہیں :
"اس نظرئیے کاکہنا ہے کہ کائنات کو وجود ایک عظیم دھماکے کے بعد ملاجبکہ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہر دھماکے سے چیز سے چیز وں کے..................
آخر وہ کون سی چیز تھی جس نے اس ساری کائنات کو مرتب کردیاوہی تو خداہے۔
اللہ تعالی ہی کائنات کے خالق ہیں ۔
یہ بات اتنی عام سادہ اور واضح ہے جسے ہر عقل والا سمجھ سکتا ہے ۔اس بارےمیں تفسیر ابن کثیر میں آیت "یایھاالناس اعبدواربکم " سورۂ بقرہ کے ذیل میں چند واقعات مذکور ہیں ان کو نقل کر دیناکافی ہے۔
کسی دیہاتی سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالی کے وجود پر کیادلیل ہے؟ تو اس نے بڑے زبردست اشعار کہے
"یاسبحان اللہ ان البعرلیدل علی البعیر
وان اثرالاقدام تدل علی المسیر
فسماء ذات ابراج،وارض ذات فجاج، وبحار ذات امواج
الایدل ذلک علی وجود اللطیف الخبیر"
ترجمہ : سبحان اللہ ! مینگنی سے اونٹ کاعلم ہوجاتا ہے اور قدموں کے نشانات سے راہ گذر کاعلم ہوجاتاہے
تو اتنے بڑے برجوں والے آسمان ،کشادہ راستوں والی زمین اور موجوں والے سمند ر سے اللہ لطیف خبیر کاعلم کیسے نہیں ہوگا۔
امام مالک ؒ سے پوچھا گیاکہ اللہ کے وجود پر کیادلیل ہے ؟تو انہوں نے رنگوں ،زبانوں اور آوازوں کے مختلف ہونے سے استدلال کیا کہ اگر یہ سب خود بخود ہوتاتو سب لوگ ایک ہی بولی بولتے ایک ہی رنگ کے ہوتے کیونکہ مشینی اصول یہ ہے کہ ایک ہی طرح کی چیز ایک جگہ سے بنتی ہے ۔
امام ابوحنیفہ ؒ سے کسی دھرئیے نے اس پر دلیل مانگی تو انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ دیر چھوڑ دو میں ایک واقعہ کے متعلق سوچ رہاہوں مجھے کسی نے بتایاہےکہ ایک کشتی پانی میں کھڑی ہے اس میں بہت سا سامان ِتجارت ہے مگرنہ ساتھ کو ئی ملاح ہے نہ ہی کوئی محافظ ہے ،لیکن ناصرف یہ کہ کشتی خود بخود چل کے آئی ہے بلکہ سمندری موجوں کامقابلہ بھی کرکہ آرہی ہے تو وہ دھرئیہ کہنے لگا امام صاحب کیسی بات کرتے ہو کوئی عقل مند یہ بات کرسکتاہے؟تو امام صاحب نے فرمایا تو خود اس سے بڑی بے عقلی کی بات کرتاہے کہ یہ اتنابڑاعالم خلاء میں ایسے ہی معلق ہے کوئی اس کابنانیوالانہیں ہے۔تو وہ خاموش ہوگیا اور اسلام قبول کرلیا۔
امام شافعی ؒ سے کسی نے پوچھا تو انہوں نے فرمایاکہ دیکھو یہ شہتوت کاپتہ ہے اسے ریشم کاکیڑابھی کھاتاہے توریشم دیتاہے ،شہد کی مکھی کھاتی ہے تو شہد دیتی ہے،اوربکری گائے وغیرہ چوپائے کھاتے ہیں تو دودھ دیتے ہیں اور مینگنی اور گوبر کی شکل میں نکالتے ہیں،اور ہر ن کھاتاہے تو مشک بنتاہےحالانکہ پتہ ایک ہی ہے تو اتنے سارے روپ اس کووہی ذات تو دیتی ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا کبھی انڈا دیکھاہے کیسا مضبوط سفید قلعہ ہے بلکل چکناہے اندر جانے کا کوئی راستہ نہیں ،باہر سے دیکھو تو چاندی کی طرح سفید اور اندر سونے کارنگ بھراہوا ہے اگرپھٹے تو جیتاجاگتاجانور نکل آتاہے خوبصورت اورخوش آواز۔ اسےکس نے پیدا کیا،یہ کہاں سے بن کے آگیا۔یہ سب دلیل ہےکہ اللہ پیداکرتاہے کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا اورنہ خود بخود یہ ہوسکتاہے۔اس مقام پر اور بہت سے عقلی ونقلی دلائل مذکورہیں ،اہل علم حضرات تفسیرابن کثیر دیکھ لیں ص۸۲،۸۳ ج ۱ قدیمی کتب خانہ عربی
حضرت اسماعیل کے ذبیح ہونے کے دلائل تورات میں باوجود تبدیلی کئے جانے کے اب بھی بے شمار ہیں ۔جن کو ہم ایک عنوان اور اس کے حوالوں کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ۔
ولدِ اکبر قربان ہوتا ہے یا اس کا بدلہ دیا جاتا ہے۔تورات کے بے شمار حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قربان ولدِاکبر ہونا چاہئیے اور ولد اکبرحضرت اسماعیل ہیں تو ذبیح اور قربان حضرت اسماعیل ہونگے۔
خروج باب گیارہ میں ہے :
"اور مصر کا ہر ایک ولدِ اکبر صاحبزادہ مصر کے حاکم فرعون کے ولدِ اکبر صاحبزادے سے لے کر چکّی چلانے وا لی لونڈی تک کا پہلا صاحبزادہ مر جائے گا۔ ولدِ اکبر نر جانور بھی مریں گے۔
خروج باب ۱۳ میں ہے:
" تم لوگ اپنے ہر ایک ولدِ اکبر صاحبزادے کو دینا یادت تھمھنا۔ اور ہر نر جانور جو ولدِ اکبر ہو خدائے عزوجل کو دینا ہو گا۔ 13 ہر ولدِ اکبر گدھا خدائے عزوجل سے واپس خریدا جا سکتا ہے۔ تم لوگ اس کے بدلے میمنے کو پیش کر کے گدھے کوت تھمھ سکتے ہو۔ اگر تم خدائے عزوجل سے گدھا خرید نا نہیں چاہتے۔ تب تم کو اس کی گردن توڑ ڈالنی چاہئے۔ ہر ایک ولدِ اکبر لڑ کا ضرور خدائے عزوجل سے لا یا جانا چاہئے۔"
خروج باب ۲۲ میں ہے:
"فصل کٹنے کے وقت تمہیں اپنا پہلا غلہ اور پہلے ثمر کا رس دینا چاہئے۔ اُسے مت ٹالو۔ "مجھے اپنے ولدِ اکبر صاحبزادے دو۔ 3 اپنی ولد اکبر گائیں اور بھیڑیں بھی مجھے دینا۔ ولدِ اکبر کو اُس کی والدہ کے ساتھ سات یوم رہنے دینا۔ اس کے بعد آٹھویں یوم اُسے مجھ کو دینا۔"
خروج باب ۳۴میں ہے:
" کسی بھی زن کا ولدِ اکبر طفل ہمیشہ میرا ہے۔ ولدِ اکبر جانور بھی جو تمہاری گائے بکریاں یا مینڈھے سے پیدا ہوتے ہیں میرا ہے۔ 2 اگر تم ولدِ اکبر گدھے کوت تھمھنا چاہتے ہو تو تم اسے ایک میمنے کے بدلے خرید سکتے ہو۔ لیکن اگر تم نے اس گدھے کو میمنے کے بدلے میں خریداتو اس گدھے کی گردن توڑ دو۔ تمہیں اپنے سب ولدِ اکبر صاحبزادے مجھ سے واپس خریدنے ہوں گے۔ کوئی آدمی بغیر نذر کے میرے آگے نہیں آئے گا۔
گنتی باب ۸ میں ہے:
"اوراولادِ اسرائیل میں ہر ایک چیز جو خدائے عزوجل کو دی جاتی ہے تمہاری ہے۔ 15 کسی بھی خاندان کا ولدِ اکبر طفل یا ولدِ اکبر جانور خدائے عزوجل کو پیش کیا جائے گا اور وہ تمہارا ہو گا۔ لیکن تمہیں ہر ولدِ اکبر طفل اور ولدِ اکبر ناپاک نر جانور کے بدلے میں پیسہ قبول کرنا چاہئے۔ تب ولدِ اکبر طفل پھر اُس خاندان کا ہو جائے گا۔ 16 جس وقت وہ ایک ماہ کا ہو جائے تب تمہیں ان کے لئے کفّارہ لے لینا چاہئے۔ اُس کی قیمت ۵ مثقال چاندی ہو گی۔ سرکاری ناپ کے مطابق ایک مثقال بیس جیرہ کے برابر ہوتا ہے۔ 17 "لیکن تمہیں ولد اکبر گائے ، بھیڑ یا بکرے کے لئے کفّارہ نہیں لینا چاہئے یہ جانور مقدس ہے اور اس کا خون چھڑکنا چاہئے اور اس کی چربی کو ضرور جلانا چاہئے۔ یہ نذرانہ تحفہ ہے ، خدائے عزوجل کے لئے خوشگوار خوشبو ہے۔
یہ سب آیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ زیادہ اہم پہلا صاحبزادہ ہے اور برس پہلے صاحبزادے کا حق ہے۔
اگر بالفرض حضرت ہاجرہ ناپسند بیوی بھی ہوں تب بھی اسماعیل کا ولد اکبر کاحق ختم نہیں ہوتا جیسا کہ خود تورات میں استثنا ء میں مذکور ہے۔ کہ غیر چہیتی بیوی سے ولد اکبر اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوتا۔
اب ہم یہودی خیانت اور تحریف کے اندر سے قرآن کا مضمون نکالنے کے لئے باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں:
جب ہم اس واقعہ کی مزید جزئیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح حضرت اسحاق کو ثابت کرنے کے لئے کئی تحریفات کی گئیں ہیں ۔
حضرت ہاجرہ اسماعیل کولے کر جس وقت گئیں تو حضرت اسماعیل ۱۳ سال کے تھے یا شیر خوار تھے؟
نمبر ۱ ؛ پیدائش باب ۲۱ میں : حضرت ہاجرہ کے مکہ کوہجرت کی روداد یوں مذکور ہے
" دُوسرے یوم صبح ابراہیم نے تھوڑا سا غلہ اور تھوڑا سا آب لیا اور ہاجرہ کو دے دیا۔بلکہ اس کے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اس کے حوالے کردیا ا ۔ ہاجرہ نے وہ جگہ چھوڑ دی اور بیرسبع کے ریگستان میں بھٹکنے لگی۔ 15 تھوڑی دیر بعد آب بھی ختم ہو گیا اور پینے کے لئے کچھ باقی نہ رہا۔اِس وجہ سے ہاجرہ نے اپنے صاحبزادے کو جھاڑی کے نیچے ڈالدیا۔ 16 ہاجرہ تھوڑی سی دُور، لگ بھگ ایک تیر کی دُور ی یعنی جتنی دُور جا کر وہ گرتا ہے جا کر بیٹھ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ ا" 17 لڑکے کی آواز خدائے عزوجل کو سُنائی دی۔ تب خدائے عزوجل کے فرشتے نے اُسے آواز دی ۔ اور کہا کہ اے ہاجرہ تجھے کیا ہوا ہے ؟ تو گھبرا مت، اس لئے کہ لڑکے کی آوا ز کو خدائے عزوجل نے سُن لیا ہے۔ 18 اٹھو،اور لڑکے کو اٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال۔کیونکہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ 19 پھر خدائے عزوجل نے اسکی آنکھیں کھولیں اور اس نے آب کا ایک کنواں دیکھا اور جا کرمشکیزہ کو آب سے بھر لیا اور لڑکے کو آب دیا۔"
اس عبارت سے محسوس ہورہا ہے کہ اس میں حضرت اسماعیل کوئی شیرخوار طفل ہے جس کے پیاس سے مرنے کا والدہ کو ڈر ہے والدہ اس کو جھاڑی میںت تھمھ دیتی ہے اور تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھ کر رونے لگ جاتی ہے۔ جبکہ تیرہ سال کا طفل جھاڑی کے نیچے ڈالنا بھی ممکن نہیں اور پھر یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ وہیں پڑا روتا رہے اس کی آواز عرش تک جائے مگر وہ اُٹھ کر والدہ تک نہ پہنچے۔
تقدیم وتاخیر کرکے مطلوبہ معنی حاصل کرنے کی کوشش
جبکہ اس عبارت کو سیاق میں ایسےضم کیا ہے کہ یہ حضرت اسحاق کی پیدائش کے بعد کا واقعہ ہے جس کی پیدائش حضرت اسماعیل سے تیرہ سال بعد ہوئی ۔درحقیقت یہ عبار ت باب ۱۶ کاحصہ ہونی چاہئیے ۔اگراس عبارت کو اگر باب ۱۶ کی آیت ۴ سے ۱۶ کے بعدت تھمھیں تو ۱۶ میں جو حضرت ہاجرہ کے حاملہ ہونے پر حضرت سارہ نے ناراضگی کا اظہار کیا رکھا جائے اور درمیان میں جو ۶سے ۸ تک ہاجرہ کے بھاگ جانے کا جو من گھڑت واقعہ خالی جگہ پر کرنے کے لئے بنایا گیا ہے حذف کردیا جائے تو یہ بات نکھر کر آگے آتی ہے۔
اصل مفہوم:
کہ حضرت ہاجرہ کے حاملہ ہونے پر حضرت سارہ کوناراضگی ہوئی مگر جس وقت طفل کی پیدائش ہوئی تو حضرت سارہ کو ان والدہ صاحبزادہ کو آگے دیکھنا برا لگنے لگا جس پر حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ وسلام شیر خوار صاحبزادے اور اس کی والدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ آئے۔
حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کہاں گئے :
تورات میں صراحتا حضرت ہاجر ہ کو مکہ لے جانا مذکور نہیں مگر جہاں لے جایا گیا اس جگہ کی نشانیاں نوٹ کرکے جگہ معلوم کی جاسکتی ہے۔
اوپر دئیے گئے حوالے میں حضرت ہاجرہ حضرت اسماعیل کو لے کر جہاں گئی ۔
وہ بیر سبع کے پاس تھا۔
وہیں لڑکے کے پاس اس کی آوازسن لی۔
آب کا کنواں ۔
اور فاران کے بیابان تھے۔
یہ الفاظ تورات میں کہاں کہاں ذکر ہوئے ؟
•اسی باب اکیس کی آیت ۳۰،۳۱۔۳۴ میں ہے کہ حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ وسلام نے ابی وطن کے ساتھ بیرسبع پر میثاق کیا کہ یہ میں نے کھودا ہے وہاں حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ وسلام نے جھاؤ کا شجرلگا یا اور دعاکی۔
•پیدائش کے باب ۱۲ میں ہے : "ابراہیم ۷۵ برس کا تھا جس وقت وہ حاران سے روانہ ہوا۔ اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام نے اپنی زوجہ ساری اور اپنے بھتیجے لوط کو اور سب مال کو جو انہوں نے جمع کیا تھا اور ان آدمیوں کو جو انکو حاران میں مل گئے تھے ساتھ اور وہ وطن کنعان کوروانہ ہوئے اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام اس وطن میں سے گذرتا ہوا مقام سکم میں مورہ کے بلوط تک پہنچا۔ اس وقت وطن میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خدائے عزوجل نے حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام کو دکھائی دیکر کہا کہ یہی وطن میں تیری نسل کو دونگا اور اس نے وہاں خدائے عزوجل کے لئے جو اسے دکھائی دیاتھا ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے کوچ کرکے اس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہےاور اپنا ڈیرا ایسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں اور عی مشرق میں پڑا اور وہاں اس نے خدائے عزوجلکے لئے قربان گاہ بنائی اور خدائے عزوجل سے دعا کی۔"
•پیدائش باب ۱۳ میں ہے اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام مصر سے اپنی زوجہ اور اپنے سب مال اور لوط کو ساتھ لیکر کنعان کے جنوب کی طرف چلا اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام کے پاس چوپائے اور سونا چاندی بکثرت تھا اور وہ کنعان کے جنوب سے سفرکرتا ہوا بیت ایل میں اس جگہ پہنچا جہاں پہلے بیت ایل اور عی کے درمیان اس کا پڑاؤ تھا یعنی وہ مقام جہاں اس نے شروع میں قربان گاہ بنائی تھی اور وہاں حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام نے خدائے عزوجل سے دعا کی۔
•پیدائش باب ۲۸ آیت ۱۱ تا ۲۲یعقوب اپنی زوجہ کی تلاش میں جاتا ہے اور بیرسبع سے نکل کر حاران کی طرف چلاجاتا ہے تو وہاں ایک پتھر کھڑا کرتا ہے اور اس جگہ کانام بیت ایل(بیت اللہ)ت تھمھتا ہے۔
•پیدائش باب ۳۱ آیت ۴۶تا ۵۰ یعقوب واپسی میں جس وقت اپنے سسر سے بھاگ کرآیا اور اسکے سسر نے اسے کوہ جلعاد پر آکر پکڑلیا وہاں یعقوب نے پتھرستون کی طرح کھڑا کیا اسی کوہ جلعاد کا نام کوہ مصفا بھی ہے
•پیدائش باب نمبر ۳۵ آیت نمبر ۱۴ تا ۱۶ یعقوب نے اس جگہ جہاں خدائے عزوجل اس سے ہمکلام ہوا پتھر کا ایک ستون کھڑا کیا اور یعقوب نے اس جگہ کا نام بیت ایل رکھا۔
•سموئیل باب ۷ اور ۸ میں ہے جسکا خلاصہ ہے سب اسرائیل کو مصفا میں جمع کرکے بت پرستی سے توبہ کی گئی آب بھر کر خدائے عزوجل کے آگے انڈیلا، روزہ رکھاتو دشمنوں پر فتح پائی ، سموئیل زندگی بھر قاضی رہا، وہ بیت ایل ، جلجال اور مصفاہ میں عدالت کرتا اور پھر وہ رامہ کو لوٹ جاتا کیونکہ اس کا گھر وہیں تھا۔ اسکے صاحبزادے اس کے بوڑھے ہونے کے بعد بیرسبع میں قاضی لگے۔
ان سب عبارتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو جگہ بیر سبع ہے وہاں ایک کنواں ہے بیابان ریگستان ہے۔ پتھر ہے بیت ایل ہے مصفا ہے مورہ ہے، وہی فاران ہے ۔مزید مزے کی بات یہ ہے کہ وہاں حضرت ابراہیم نے کئی کچھ بنایا مذکور ہے ۔بیت ایل کی تعمیر محذوف کردی ۔ وہیں پر دعاکرنے کا ذکر موجودہے ۔یہاں تعمیر پہلے کی یا حضرت ہاجرہ کو پہلے چھوڑا اس میں بھی تقدیم تاخیر ہے ۔ فاران میں حضرت ہاجرہ گئیں وہیں حضرت اسماعیل جوان ہوئے اور انہیں فاران کے پہاڑوں کی حضرت موسی نے بشارت دی ۔اب بھی کوئی نہ سمجھنا چاہے تو کیا کی جئیے ۔
ذبیح کون ؟
اب اگر پیدائش کی کتاب میں دئیے گئے واقعے میں ذبیح کا نام مٹاکر واقعے پر غور کریں تو مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔ اگلی آیات پیدائش ہی کی ہیں مگر ہم نے اس میں سے بیٹے کانام غائب کیا ہے ۔اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے کہ بات اسماعیل کی ہوگی یا اسحاق کی ۔ملاحظہ فرمائیے:۔
" ان سب باتوں کے بعد خدائے عزوجل نے ابراہیم کو آزمایا۔ خدائے عزوجل نے آواز دی " ابراہیم! " ابراہیم نے جواب دیا، " میں یہاں ہوں۔ " 2 تب خدائے عزوجل نے اس سے کہا کہ تیرا صاحبزادہ یعنی تیرا اکلوتا صاحبزادہ ۔۔کو جسے تو پیار کرتا ہے موریاہ علاقے میں لے جا۔ میں تجھے جس پہاڑ پر جانے کی نشاندہی کروں وہاں جا کر اپنے صاحبزادے کو قربان کر دینا۔ 3 صبح ابراہیم اٹھا اور اپنے گدھے پر زین کسا۔۔۔کے ساتھ مزید دو نوکروں کو لیا۔ اور برس پیش کرنے کے لئے لکڑی جمع کی اور خدائے عزوجل کی بتلائی ہوئی جگہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ 4 اس نے تین یوم تک لگاتار سفر کیا۔ ابراہیم نے جس وقت غور سے دیکھا تو مطلوبہ جگہ ان کو دور سے دِکھائی دی۔ 5 اس کے بعد ابراہیم نے اپنے نوکروں سے کہا کہ یہیں پر گدھے کے ساتھت تھمو۔ میں اور میرا صاحبزادہ دونوں جا کر اس جگہ پر عبادت کریں گے۔ پھر اس کے بعد ہم واپس لوٹ کر تمہارے پاس آئیں گے۔ 6 ابراہیم نےبرس کے لئے لکڑیاں جمع کر کے اپنے صاحبزادے کے کندھوں پر لادیں ۔ ابراہیم مخصوص قسم کی چھُری اور انگارہ ساتھ لئے دونوں آگے چلے گئے۔ 7 ا۔۔ نےاپنے باپ ابراہیم کو کہا، "ابّا" ابراہیم نے جواب دیا اور سوال کیا، "کیا بات ہے صاحبزادے "۔۔ نے کہا، "لکڑیاں اور آ گ تو مجھے نظر آ رہی ہے۔ لیکن برس کے لئے میمنہ (بھیڑ کا طفل) کہاں ہیں؟ " 8 ابراہیم نے کہا کہ صاحبزادے ! برس کے لئے مطلوب میمنہ خدائے عزوجل ہی فراہم کرتا ہے۔ 9 خدائے عزوجل کی رہنمائی کردہ جگہ پر آئے وہاں پر ابراہیم نے ایک قربان گاہ بنائی۔ اوپر لکڑیوں کو ترتیب دیا۔ اس کے بعد اپنے صاحبزادے ۔۔۔ کے ہاتھ پیر جکڑ کر قربان گاہ کے اوپر جو لکڑیاں ترتیب دی گئی تھیں ان کے اوپر لِٹا دیا۔ 1 تب اس نے اپنے صاحبزادے کو قربان کرنے کیلئے چھُری اوپر اٹھا ئی۔ 11 خدائے عزوجل کا فرشتہ جنت سے پکارا، " ابراہیم، ابراہیم! " ابراہیم نے جواب دیا، "میں یہاں ہوں۔ " 12 خدائے عزوجل کے فرشتے نے کہا کہ تُو اپنے صاحبزادے کو قربان نہ کر اور نہ ہی اسے کسی قسم کی تکلیف دے۔ اب میں جانتا ہوں کہ تم خدائے عزوجل سے ڈرتے ہو، کیونکہ تم نے اپنے اکلوتے صاحبزادے کو قربان کرنے میں پس و پیش نہیں کیا۔" 13 جس وقت ابراہیم نے آنکھ اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک مینڈھا نظر آیا۔ اُس مینڈھے کا سینگ ایک جھاڑی میں پھنس گیا تھا۔ وہ فوراً وہاں گیا۔ اور اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے صاحبزادے کی جگہ اُس مینڈھے کو قربان کر دیا۔ 14 جس کی وجہ سے اُس جگہ کا نام " یہوہ یری " ہوا۔ آج بھی لوگ کہتے ہیں، " اس پہاڑ پر خدائے عزوجل کی رویا دیکھی جا سکتی ہے۔ " 15 خدائے عزوجل کا فرشتہ ابراہیم کو آسمان سے دوسری مرتبہ آ کر پکارا۔ 16 اور کہا " خدائے عزوجل یہ کہتا ہے :۔کیونکہ تم یہ کرنے کے لئے تیار تھے۔ میں بھی یقین کے ساتھ وعدہ کروں گا۔ کیونکہ تم نے اپنے اکلوتے صاحبزادے کو مجھ سے نہیں رو کا۔ 17 میں یقینی طور پر تجھے بر کت دوں گا۔ تیری نسل کے سلسلے کو بھی بڑھاؤں گا۔ تیری قوم اور نسل آسمان میں تاروں کی طرح اور بحیرہ (سمندر /بحر) کے ساحل پر ریت کے ذرّوں کی طرح لا تعداد ہوں گی۔ اور وہ اپنے دُشمنوں کے شہروں کو اپنے قابو میں کر لیں گے۔ 18 اور کہا "کیونکہ تو نے میری فروالدہ برداری کی۔ اور ساری قوم تیری نسل کے وسیلے سے برکت پائے گی۔ " 19 پھر اس کے بعد ابراہیم اپنے نوکروں کے پاس گیا۔ اور وہ سب واپس بیر سبع کولوٹ گئے۔"
حضرت اسماعیل کے ذبیح ہونے پر دلالت کرنے والے الفاظ
اس واقعے میں اکلوتا ، مورہ اور واپس بیرسبع کو لوٹنا بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ اسمائیل کا ہے کیونکہ اسحاق کبھی بھی اکلوتا نہیں رہا اور ولدِ اکبر ہونے کے ناطے برس ہونی بھی اسمائیل کی چاہئیے تھی۔ اور بیر سبع کو لوٹنے کا مطلب ہے وہ بیر سبع سے آئے تھے اور بیر سبع میں رہنے والے حضرت اسماعیل اور اور ان کی والدہ تھی نہ کہ حضرت اسحاق اور سارہ۔
حضرت اسماعیل کی خوشخبری
9 خدائے عزوجل کا فرشتہ ہاجرہ سے کہا کہ سارائی تو تیری مالکہ ہے۔ تُو اُس کے پاس لوٹ کر جا اور اُس کی بات مان۔ اِس کے علاوہ خدائے عزوجل کے فرشتے نے ہاجرہ سے کہا، " میں تیری نسل کے سلسلہ کو بہت بڑھاؤں گا۔ وہ اتنی ہوں گی کہ گِنی نہیں جائیں گی۔" 11 مزید فرشتے نے اُس سے کہا، " اے ہاجرہ اب تُو حاملہ ہو گئی ہے۔ اور تجھے ایک صاحبزادہ پیدا ہو گا۔ تو اس کا نام اِسمٰعیلت تھمھنا۔ اِس لئے کہ خدائے عزوجل نے تیری تکالیف کو سُنا ہے۔ اور وہ تیری مدد کرے گا۔ 12 " اِسمٰعیل جنگلی گدھے کی طرح مضبوط اور آ زاد ہو گا۔ اور وہ ہر ایک کا مخالف ہو گا اور ہر ایک اُس کا مخالف ہو گا۔ وہ اپنے بھا ئیوں کے قریب خیمہ زن ہو گا۔" 13 خدائے عزوجل نے خود ہاجرہ کے ساتھ باتیں کیں۔ اس وجہ سے ہاجرہ نے کہا، " اِس جگہ بھی خدائے عزوجل مجھے دیکھ کر میرے بارے میں فِکر مند ہوتا ہے۔ " اس لئے اس نے اس کو نیا نام دیا، " خدائے عزوجل مجھے دیکھتا ہے " ہاجرہ نے کہا، " میں نے خدائے عزوجل کو یہاں دیکھا ہے لیکن میں اب تک زندہ ہوں! اس لئے انہوں نے خدائے عزوجل کو نیا نام دیا، " خدائے عزوجل جو مجھے دیکھتا ہے۔ " 14 اِس وجہ سے اُس کنواں عمل نام بیر لحی روئی ہو گیا۔ وہ کنواں قادِس اور بِرد کے درمیان ہے۔ 15 ہا جرہ نے حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام کے صاحبزادے کو جنم دیا۔ اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام نے اُس صاحبزادے کا نام اِسمٰعیل رکھا۔ 16 حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام جس وقت چھیاسی برس کے ہوئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہوئے۔
یہی واقعہ ہمیں حدیث میں بھی ملتا ہے بخاری شریف کے الفاظ منقول ہیں :۔