Monday, November 29, 2010

ذبیح کون؟ اسماعیل یا اسحاق

ذبیح حضرت اسماعیل یا اسحق
حضرت اسماعیل کے ذبیح ہونے کے دلائل تورات میں باوجود تبدیلی کئے جانے کے اب بھی بے شمار ہیں ۔جن کو ہم ایک عنوان اور اس کے حوالوں کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ۔
ولدِ اکبر قربان ہوتا ہے یا اس کا بدلہ دیا جاتا ہے۔تورات کے بے شمار حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قربان ولدِاکبر ہونا چاہئیے اور ولد اکبرحضرت اسماعیل ہیں تو ذبیح اور قربان حضرت اسماعیل ہونگے۔
خروج باب گیارہ میں ہے :
 "اور مصر کا ہر ایک ولدِ اکبر صاحبزادہ مصر کے  حاکم فرعون کے  ولدِ اکبر  صاحبزادے  سے  لے  کر چکّی چلانے  وا لی لونڈی  تک کا پہلا صاحبزادہ مر جائے  گا۔ ولدِ اکبر  نر جانور بھی مریں گے۔ 
خروج باب ۱۳ میں ہے: 
" تم لوگ اپنے  ہر ایک ولدِ اکبر  صاحبزادے  کو دینا یادت  تھمھنا۔ اور ہر نر جانور جو ولدِ اکبر ہو خدائے عزوجل کو دینا ہو گا۔ 13 ہر ولدِ اکبر گدھا خدائے عزوجل سے  واپس خریدا جا سکتا ہے۔ تم لوگ اس کے  بدلے میمنے کو پیش کر کے  گدھے  کوت  تھمھ سکتے  ہو۔ اگر تم خدائے عزوجل سے  گدھا خرید نا نہیں چاہتے۔ تب تم کو اس کی گردن توڑ ڈالنی چاہئے۔ ہر ایک ولدِ اکبر لڑ کا ضرور خدائے عزوجل سے  لا یا جانا چاہئے۔" 
خروج باب ۲۲ میں ہے: 
 "فصل کٹنے  کے  وقت تمہیں اپنا پہلا غلہ اور پہلے  ثمر کا رس دینا چاہئے۔ اُسے  مت ٹالو۔ "مجھے  اپنے  ولدِ اکبر  صاحبزادے دو۔ 3   اپنی ولد اکبر گائیں اور بھیڑیں بھی مجھے  دینا۔ ولدِ اکبر  کو اُس کی والدہ کے  ساتھ سات یوم رہنے  دینا۔ اس کے  بعد آٹھویں یوم اُسے  مجھ کو دینا۔" 
خروج باب ۳۴میں ہے: 
 " کسی بھی زن کا ولدِ اکبر طفل ہمیشہ میرا ہے۔ ولدِ اکبر جانور بھی جو تمہاری گائے  بکریاں یا مینڈھے  سے  پیدا ہوتے  ہیں میرا ہے۔ 2   اگر تم ولدِ اکبر  گدھے  کوت  تھمھنا چاہتے  ہو تو تم اسے  ایک میمنے  کے  بدلے  خرید سکتے  ہو۔ لیکن اگر تم نے  اس گدھے  کو میمنے  کے  بدلے  میں خریداتو اس گدھے  کی گردن توڑ دو۔ تمہیں اپنے  سب ولدِ اکبر  صاحبزادے  مجھ سے  واپس خریدنے  ہوں گے۔ کوئی آدمی  بغیر نذر کے  میرے  آگے   نہیں آئے  گا۔ 
گنتی باب ۸ میں ہے:
 "اوراولادِ اسرائیل میں ہر ایک چیز جو خدائے عزوجل کو دی جاتی ہے  تمہاری ہے۔ 15 کسی بھی خاندان کا ولدِ اکبر طفل یا ولدِ اکبر جانور خدائے عزوجل کو پیش کیا جائے  گا اور وہ تمہارا ہو گا۔ لیکن تمہیں ہر ولدِ اکبر طفل اور ولدِ اکبر ناپاک نر جانور کے  بدلے  میں پیسہ قبول کرنا چاہئے۔ تب ولدِ اکبر طفل پھر اُس خاندان کا ہو جائے  گا۔ 16 جس وقت وہ ایک ماہ  کا ہو جائے  تب تمہیں ان کے  لئے  کفّارہ لے  لینا چاہئے۔ اُس کی قیمت ۵ مثقال چاندی ہو گی۔ سرکاری ناپ کے  مطابق ایک مثقال بیس جیرہ کے  برابر ہوتا ہے۔ 17 "لیکن تمہیں ولد اکبر گائے  ، بھیڑ یا بکرے  کے  لئے  کفّارہ نہیں لینا چاہئے  یہ جانور مقدس ہے  اور اس کا خون چھڑکنا چاہئے  اور اس کی چربی کو ضرور جلانا چاہئے۔ یہ نذرانہ تحفہ ہے  ، خدائے عزوجل کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہے۔ 
 یہ سب آیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ زیادہ اہم پہلا صاحبزادہ ہے اور برس  پہلے صاحبزادے کا حق ہے۔
اگر بالفرض حضرت ہاجرہ ناپسند بیوی بھی ہوں تب بھی اسماعیل کا ولد اکبر کاحق ختم نہیں ہوتا جیسا کہ خود تورات میں استثنا ء میں مذکور ہے۔ کہ غیر چہیتی بیوی سے ولد اکبر اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوتا۔
اب ہم یہودی خیانت اور تحریف کے اندر سے  قرآن کا مضمون نکالنے کے لئے باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں:
جب ہم اس واقعہ کی مزید جزئیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح حضرت اسحاق کو ثابت کرنے کے لئے کئی تحریفات کی گئیں ہیں ۔
حضرت ہاجرہ اسماعیل کولے کر جس وقت گئیں تو حضرت اسماعیل ۱۳ سال کے تھے یا شیر خوار تھے؟
نمبر ۱ ؛ پیدائش باب ۲۱ میں : حضرت ہاجرہ کے مکہ کوہجرت کی روداد یوں مذکور ہے
" دُوسرے یوم صبح ابراہیم نے  تھوڑا سا غلہ اور تھوڑا سا آب لیا اور ہاجرہ کو دے  دیا۔بلکہ اس کے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اس کے حوالے کردیا ا ۔ ہاجرہ نے  وہ جگہ  چھوڑ دی اور بیرسبع کے  ریگستان میں بھٹکنے  لگی۔ 15 تھوڑی دیر بعد آب بھی ختم ہو گیا اور پینے  کے  لئے  کچھ باقی نہ رہا۔اِس وجہ سے  ہاجرہ نے  اپنے  صاحبزادے  کو جھاڑی کے نیچے ڈالدیا۔ 16 ہاجرہ تھوڑی سی دُور، لگ بھگ ایک تیر کی دُور ی یعنی جتنی دُور جا کر وہ گرتا ہے  جا کر  بیٹھ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ ا" 17 لڑکے  کی آواز خدائے عزوجل  کو سُنائی دی۔ تب خدائے عزوجل  کے فرشتے  نے  اُسے  آواز دی ۔ اور کہا کہ اے  ہاجرہ تجھے  کیا ہوا ہے ؟ تو گھبرا مت،  اس لئے  کہ لڑکے  کی آوا ز کو خدائے عزوجل نے  سُن لیا ہے۔ 18 اٹھو،اور  لڑکے  کو اٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال۔کیونکہ  میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ 19 پھر خدائے عزوجل  نے اسکی آنکھیں کھولیں اور اس نے آب کا ایک کنواں دیکھا اور جا کرمشکیزہ کو آب سے  بھر لیا اور لڑکے  کو آب دیا۔" 
اس عبارت سے محسوس ہورہا ہے کہ اس میں حضرت اسماعیل کوئی شیرخوار طفل ہے جس کے پیاس سے مرنے کا والدہ کو ڈر ہے والدہ اس کو جھاڑی میںت  تھمھ دیتی ہے اور تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھ کر رونے لگ جاتی ہے۔ جبکہ تیرہ سال کا طفل جھاڑی کے نیچے ڈالنا بھی ممکن نہیں اور پھر یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ وہیں پڑا روتا رہے اس کی آواز عرش تک جائے مگر وہ اُٹھ کر والدہ تک نہ پہنچے۔ 
تقدیم وتاخیر کرکے مطلوبہ معنی حاصل کرنے کی کوشش 
جبکہ اس عبارت کو سیاق میں ایسےضم کیا ہے کہ یہ حضرت اسحاق کی پیدائش کے بعد کا واقعہ ہے جس کی پیدائش حضرت اسماعیل سے تیرہ سال بعد ہوئی ۔درحقیقت یہ عبار ت باب ۱۶ کاحصہ ہونی چاہئیے ۔اگراس عبارت کو اگر باب ۱۶ کی آیت ۴ سے ۱۶  کے بعدت  تھمھیں تو ۱۶ میں جو  حضرت ہاجرہ کے حاملہ ہونے پر حضرت سارہ نے ناراضگی کا اظہار کیا رکھا جائے اور درمیان میں جو ۶سے ۸ تک ہاجرہ کے بھاگ جانے کا جو من گھڑت واقعہ خالی جگہ پر کرنے کے لئے بنایا گیا ہے حذف کردیا جائے تو یہ بات نکھر کر آگے  آتی ہے۔
اصل مفہوم:
کہ حضرت ہاجرہ کے حاملہ ہونے پر حضرت سارہ کوناراضگی ہوئی مگر جس وقت طفل کی پیدائش ہوئی تو حضرت سارہ کو ان والدہ صاحبزادہ کو آگے  دیکھنا برا لگنے لگا جس پر حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ وسلام شیر خوار صاحبزادے اور اس کی والدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ آئے۔
حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کہاں گئے :
تورات میں صراحتا حضرت ہاجر ہ کو مکہ لے جانا مذکور نہیں مگر جہاں لے جایا گیا اس جگہ کی نشانیاں نوٹ کرکے جگہ معلوم کی جاسکتی ہے۔
اوپر دئیے گئے حوالے میں حضرت ہاجرہ حضرت اسماعیل کو لے کر جہاں گئی ۔
وہ بیر سبع کے پاس تھا۔
 وہیں لڑکے کے پاس اس کی آوازسن لی۔
 آب کا کنواں ۔
 اور فاران کے بیابان تھے۔ 
یہ الفاظ تورات میں کہاں کہاں ذکر ہوئے ؟
• اسی باب اکیس کی آیت ۳۰،۳۱۔۳۴ میں ہے کہ حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ وسلام نے ابی وطن کے ساتھ بیرسبع پر میثاق کیا کہ یہ میں نے کھودا ہے وہاں حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ وسلام نے جھاؤ کا شجرلگا یا اور دعاکی۔
• پیدائش کے باب ۱۲ میں ہے : "ابراہیم ۷۵ برس کا تھا جس وقت وہ حاران سے روانہ ہوا۔ اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  نے اپنی زوجہ ساری اور اپنے بھتیجے لوط کو اور سب مال کو جو انہوں نے جمع کیا تھا اور ان آدمیوں کو جو انکو حاران میں مل گئے تھے ساتھ اور وہ وطن کنعان کوروانہ ہوئے اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  اس وطن میں سے گذرتا ہوا مقام سکم میں مورہ کے بلوط تک پہنچا۔ اس وقت وطن میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خدائے عزوجل نے حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  کو دکھائی دیکر کہا کہ یہی وطن میں تیری نسل کو دونگا اور اس نے وہاں خدائے عزوجل کے لئے جو اسے دکھائی دیاتھا ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے کوچ کرکے اس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہےاور اپنا ڈیرا ایسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں اور عی مشرق میں پڑا اور وہاں اس نے خدائے عزوجلکے لئے قربان گاہ بنائی اور خدائے عزوجل سے دعا کی۔"
• پیدائش باب ۱۳ میں ہے اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  مصر سے اپنی زوجہ اور اپنے سب مال اور لوط کو ساتھ لیکر کنعان کے جنوب کی طرف چلا اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  کے پاس چوپائے اور سونا چاندی بکثرت تھا اور وہ کنعان کے جنوب سے سفرکرتا ہوا بیت ایل میں اس جگہ پہنچا جہاں پہلے بیت ایل اور عی کے درمیان اس کا پڑاؤ تھا یعنی وہ مقام جہاں اس نے شروع میں قربان گاہ بنائی تھی اور وہاں حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  نے خدائے عزوجل سے دعا کی۔
• پیدائش باب ۲۸ آیت ۱۱ تا ۲۲یعقوب اپنی زوجہ کی تلاش میں جاتا ہے اور بیرسبع سے نکل کر حاران کی طرف چلاجاتا ہے تو وہاں ایک پتھر کھڑا کرتا ہے اور اس جگہ کانام بیت ایل(بیت اللہ)ت  تھمھتا ہے۔
• پیدائش باب ۳۱ آیت ۴۶تا ۵۰ یعقوب واپسی میں جس وقت اپنے سسر سے بھاگ کرآیا اور اسکے سسر نے اسے کوہ جلعاد پر آکر پکڑلیا وہاں یعقوب نے پتھرستون کی طرح کھڑا کیا اسی کوہ جلعاد کا نام کوہ مصفا بھی ہے
• پیدائش باب نمبر ۳۵ آیت نمبر ۱۴ تا ۱۶ یعقوب نے اس جگہ جہاں خدائے عزوجل  اس سے ہمکلام ہوا پتھر کا ایک ستون کھڑا کیا اور یعقوب نے اس جگہ کا نام بیت ایل رکھا۔
• سموئیل باب ۷ اور ۸ میں ہے جسکا خلاصہ ہے سب اسرائیل کو مصفا میں جمع کرکے بت پرستی سے توبہ کی گئی آب بھر کر خدائے عزوجل کے آگے انڈیلا، روزہ رکھاتو دشمنوں پر فتح پائی ، سموئیل زندگی بھر قاضی رہا، وہ بیت ایل ، جلجال اور مصفاہ میں  عدالت کرتا اور پھر وہ رامہ کو لوٹ جاتا کیونکہ اس کا گھر وہیں تھا۔  اسکے صاحبزادے اس کے بوڑھے ہونے کے بعد بیرسبع میں قاضی لگے۔ 
ان سب عبارتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو جگہ  بیر سبع ہے وہاں ایک کنواں ہے بیابان ریگستان ہے۔ پتھر ہے بیت ایل ہے مصفا ہے مورہ ہے، وہی فاران ہے ۔مزید مزے کی بات یہ ہے کہ  وہاں حضرت ابراہیم نے کئی کچھ بنایا مذکور ہے ۔بیت ایل کی تعمیر  محذوف کردی ۔ وہیں پر دعاکرنے کا ذکر موجودہے ۔یہاں تعمیر پہلے کی یا حضرت ہاجرہ کو پہلے چھوڑا اس میں بھی تقدیم تاخیر ہے ۔ فاران میں حضرت ہاجرہ گئیں وہیں حضرت اسماعیل جوان ہوئے اور انہیں فاران کے پہاڑوں کی حضرت موسی نے بشارت دی ۔اب بھی کوئی نہ سمجھنا چاہے تو کیا کی جئیے ۔

ذبیح کون ؟
اب اگر پیدائش کی کتاب میں دئیے گئے واقعے میں ذبیح کا نام مٹاکر واقعے پر غور کریں تو مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔ اگلی آیات پیدائش ہی کی ہیں مگر ہم نے اس میں سے بیٹے کانام غائب کیا ہے ۔اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے کہ بات اسماعیل کی ہوگی یا اسحاق کی ۔ملاحظہ فرمائیے:۔
" ان سب باتوں کے  بعد خدائے عزوجل  نے  ابراہیم کو آزمایا۔ خدائے عزوجل  نے  آواز دی " ابراہیم! " ابراہیم نے  جواب دیا، " میں یہاں ہوں۔ " 2 تب خدائے عزوجل  نے  اس سے  کہا کہ تیرا صاحبزادہ یعنی تیرا اکلوتا صاحبزادہ ۔۔کو جسے  تو پیار کرتا ہے  موریاہ علاقے  میں لے  جا۔ میں تجھے  جس پہاڑ پر جانے  کی نشاندہی کروں وہاں جا کر اپنے  صاحبزادے  کو قربان کر دینا۔ 3 صبح ابراہیم اٹھا اور اپنے  گدھے  پر زین کسا۔۔۔کے  ساتھ مزید دو نوکروں کو لیا۔ اور برس  پیش کرنے  کے  لئے  لکڑی جمع کی اور خدائے عزوجل  کی بتلائی ہوئی جگہ کے  لئے  روانہ ہو گئے۔ 4 اس نے  تین یوم تک لگاتار سفر کیا۔ ابراہیم نے  جس وقت غور سے  دیکھا تو مطلوبہ جگہ ان کو دور سے  دِکھائی دی۔ 5 اس کے  بعد ابراہیم نے  اپنے  نوکروں سے  کہا کہ یہیں پر گدھے  کے  ساتھت  تھمو۔ میں اور میرا صاحبزادہ دونوں جا کر اس جگہ پر عبادت کریں گے۔ پھر اس کے  بعد ہم واپس لوٹ کر تمہارے  پاس آئیں گے۔ 6 ابراہیم  نےبرس  کے  لئے  لکڑیاں جمع کر کے  اپنے  صاحبزادے  کے  کندھوں پر لادیں ۔ ابراہیم مخصوص قسم کی چھُری اور انگارہ ساتھ لئے  دونوں آگے  چلے  گئے۔ 7 ا۔۔  نےاپنے  باپ ابراہیم کو کہا، "ابّا" ابراہیم نے  جواب دیا اور سوال کیا، "کیا بات ہے  صاحبزادے  "۔۔ نے  کہا، "لکڑیاں اور آ گ تو مجھے  نظر آ رہی ہے۔ لیکن برس  کے  لئے  میمنہ (بھیڑ کا طفل) کہاں ہیں؟ " 8 ابراہیم نے  کہا کہ صاحبزادے ! برس  کے  لئے  مطلوب میمنہ خدائے عزوجل  ہی فراہم کرتا ہے۔ 9 خدائے عزوجل  کی رہنمائی کردہ جگہ پر آئے  وہاں پر ابراہیم نے  ایک قربان گاہ بنائی۔ اوپر لکڑیوں کو ترتیب دیا۔ اس کے  بعد اپنے  صاحبزادے  ۔۔۔ کے  ہاتھ پیر جکڑ کر قربان گاہ کے  اوپر جو لکڑیاں ترتیب دی گئی تھیں ان کے   اوپر لِٹا دیا۔ 1   تب اس نے  اپنے  صاحبزادے  کو قربان کرنے  کیلئے  چھُری اوپر اٹھا ئی۔ 11 خدائے عزوجل کا فرشتہ جنت سے  پکارا، " ابراہیم، ابراہیم! " ابراہیم نے  جواب دیا، "میں یہاں ہوں۔ " 12 خدائے عزوجل  کے  فرشتے  نے  کہا کہ تُو اپنے  صاحبزادے  کو قربان نہ کر اور نہ ہی اسے  کسی قسم کی تکلیف دے۔ اب میں جانتا ہوں کہ تم خدائے عزوجل  سے  ڈرتے  ہو، کیونکہ تم نے  اپنے  اکلوتے  صاحبزادے  کو قربان کرنے  میں پس و پیش نہیں کیا۔" 13 جس وقت ابراہیم نے  آنکھ اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک مینڈھا نظر آیا۔ اُس مینڈھے  کا سینگ ایک جھاڑی میں پھنس گیا تھا۔ وہ فوراً وہاں گیا۔ اور اُس مینڈھے  کو پکڑا اور اپنے  صاحبزادے  کی جگہ اُس مینڈھے  کو قربان کر دیا۔ 14 جس کی وجہ سے  اُس جگہ کا نام " یہوہ یری " ہوا۔ آج بھی لوگ کہتے  ہیں، " اس پہاڑ پر خدائے عزوجل کی رویا دیکھی جا سکتی ہے۔ " 15 خدائے عزوجل کا فرشتہ ابراہیم کو آسمان سے  دوسری مرتبہ آ کر پکارا۔ 16 اور کہا " خدائے عزوجل  یہ کہتا ہے  :۔کیونکہ تم یہ کرنے  کے  لئے  تیار تھے۔ میں بھی یقین کے  ساتھ وعدہ کروں گا۔ کیونکہ تم نے  اپنے  اکلوتے  صاحبزادے  کو مجھ سے  نہیں رو کا۔ 17 میں یقینی طور پر تجھے  بر کت دوں گا۔ تیری نسل کے  سلسلے  کو بھی بڑھاؤں گا۔ تیری قوم اور نسل آسمان میں تاروں کی طرح اور بحیرہ (سمندر /بحر) کے  ساحل پر ریت کے  ذرّوں کی طرح لا تعداد ہوں گی۔ اور وہ اپنے  دُشمنوں کے  شہروں کو اپنے  قابو میں کر لیں گے۔ 18 اور کہا "کیونکہ تو نے  میری فروالدہ برداری کی۔ اور ساری قوم تیری نسل کے  وسیلے  سے  برکت پائے  گی۔ " 19 پھر اس کے  بعد ابراہیم اپنے  نوکروں کے  پاس گیا۔ اور وہ سب واپس بیر سبع کولوٹ گئے۔"
حضرت اسماعیل کے ذبیح ہونے پر دلالت کرنے والے الفاظ
اس واقعے میں اکلوتا ، مورہ اور واپس بیرسبع کو لوٹنا بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ اسمائیل کا ہے کیونکہ اسحاق کبھی بھی اکلوتا نہیں رہا اور ولدِ اکبر ہونے کے ناطے برس  ہونی بھی اسمائیل کی چاہئیے تھی۔ اور بیر سبع کو لوٹنے کا مطلب ہے وہ بیر سبع سے آئے تھے اور بیر سبع میں رہنے والے حضرت اسماعیل اور اور ان کی والدہ تھی نہ کہ حضرت اسحاق اور سارہ۔
حضرت اسماعیل کی خوشخبری
9 خدائے عزوجل کا فرشتہ ہاجرہ سے  کہا کہ سارائی تو تیری مالکہ ہے۔ تُو اُس کے  پاس لوٹ کر جا اور اُس کی بات مان۔ اِس کے  علاوہ خدائے عزوجل کے  فرشتے نے  ہاجرہ سے  کہا، " میں تیری نسل کے  سلسلہ کو بہت بڑھاؤں گا۔ وہ اتنی ہوں گی کہ گِنی نہیں جائیں گی۔" 11 مزید فرشتے  نے  اُس سے  کہا، " اے  ہاجرہ اب تُو حاملہ ہو گئی ہے۔ اور تجھے  ایک صاحبزادہ پیدا ہو گا۔ تو اس کا نام اِسمٰعیلت  تھمھنا۔ اِس لئے  کہ خدائے عزوجل نے  تیری تکالیف کو سُنا ہے۔ اور وہ تیری مدد کرے  گا۔ 12 " اِسمٰعیل جنگلی گدھے  کی طرح مضبوط اور آ زاد ہو گا۔ اور وہ ہر ایک کا مخالف ہو گا اور ہر ایک اُس کا مخالف ہو گا۔ وہ اپنے  بھا ئیوں کے  قریب خیمہ زن ہو گا۔" 13 خدائے عزوجل نے  خود ہاجرہ کے  ساتھ باتیں کیں۔ اس وجہ سے  ہاجرہ نے  کہا، " اِس جگہ بھی خدائے عزوجل  مجھے  دیکھ کر میرے  بارے  میں فِکر مند ہوتا ہے۔ " اس لئے  اس نے  اس کو نیا نام دیا، " خدائے عزوجل  مجھے  دیکھتا ہے  " ہاجرہ نے  کہا، " میں نے  خدائے عزوجل  کو یہاں دیکھا ہے  لیکن میں اب تک زندہ ہوں! اس لئے  انہوں نے  خدائے عزوجل  کو نیا نام دیا، " خدائے عزوجل  جو مجھے  دیکھتا ہے۔ " 14 اِس وجہ سے  اُس کنواں عمل نام بیر لحی روئی ہو گیا۔ وہ کنواں قادِس اور بِرد کے  درمیان ہے۔ 15 ہا جرہ نے  حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  کے  صاحبزادے  کو جنم دیا۔ اور حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  نے  اُس صاحبزادے  کا نام اِسمٰعیل رکھا۔ 16 حضرتِ خلیل ابراہیم علیہ الف تحیہ و علیہ وعلی الہ الصلاۃ والسلام  جس وقت چھیاسی برس کے  ہوئے  تو ہاجرہ سے  اِسمٰعیل پیدا ہوئے۔ 
یہی واقعہ ہمیں حدیث میں بھی ملتا ہے بخاری شریف کے الفاظ منقول ہیں :۔
"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ، فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغُوا كَدَاءً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ: يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَى مَنْ تَتْرُكُنَا؟ قَالَ: إِلَى اللَّهِ، قَالَتْ: رَضِيتُ بِاللَّهِ، قَالَ: فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى لَمَّا فَنِيَ المَاءُ، قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، قَالَ فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ، وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ [ص:145] أَحَدًا، فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، فَلَمَّا بَلَغَتِ الوَادِيَ سَعَتْ وَأَتَتِ المَرْوَةَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ أَشْوَاطًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، تَعْنِي الصَّبِيَّ، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هُوَ عَلَى حَالِهِ كَأَنَّهُ يَنْشَغُ لِلْمَوْتِ، فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا، فَقَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ، لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا، فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ، فَقَالَتْ: أَغِثْ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ، فَإِذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا، وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الأَرْضِ، قَالَ: فَانْبَثَقَ المَاءُ، فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَرَكَتْهُ كَانَ المَاءُ ظَاهِرًا» . قَالَ: فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ المَاءِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، قَالَ: فَمَرَّ نَاسٌ مِنْ جُرْهُمَ بِبَطْنِ الوَادِي، فَإِذَا هُمْ بِطَيْرٍ، كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَاكَ، وَقَالُوا: مَا يَكُونُ الطَّيْرُ إِلَّا عَلَى مَاءٍ، فَبَعَثُوا رَسُولَهُمْ فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ، فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ، فَأَتَوْا إِلَيْهَا فَقَالُوا: يَا أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَكُونَ مَعَكِ، أَوْ نَسْكُنَ مَعَكِ، فَبَلَغَ ابْنُهَا فَنَكَحَ فِيهِمُ امْرَأَةً، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي، قَالَ: فَجَاءَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: ذَهَبَ يَصِيدُ، قَالَ: قُولِي لَهُ إِذَا جَاءَ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَ: أَنْتِ ذَاكِ، فَاذْهَبِي إِلَى أَهْلِكِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي، قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: ذَهَبَ يَصِيدُ، فَقَالَتْ: أَلاَ تَنْزِلُ فَتَطْعَمَ وَتَشْرَبَ، فَقَالَ: وَمَا طَعَامُكُمْ وَمَا شَرَابُكُمْ؟ قَالَتْ: طَعَامُنَا اللَّحْمُ وَشَرَابُنَا المَاءُ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي طَعَامِهِمْ وَشَرَابِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةٌ بِدَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ» قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي، فَجَاءَ فَوَافَقَ إِسْمَاعِيلَ مِنْ وَرَاءِ زَمْزَمَ يُصْلِحُ نَبْلًا لَهُ، فَقَالَ: يَا إِسْمَاعِيلُ، إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا، قَالَ: أَطِعْ رَبَّكَ، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ، قَالَ: إِذَنْ أَفْعَلَ، أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَ فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ يَبْنِي، وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الحِجَارَةَ وَيَقُولاَنِ: {رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ} [البقرة: 127] . قَالَ: حَتَّى ارْتَفَعَ البِنَاءُ، وَضَعُفَ الشَّيْخُ عَنْ نَقْلِ الحِجَارَةِ، فَقَامَ عَلَى حَجَرِ المَقَامِ، فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الحِجَارَةَ وَيَقُولاَنِ: {رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ} [البقرة: 127]"